اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب میں تدوین شدہ بنیادی قانون نہ ہونے کی وجہ سے اس ملک کا نظام خاندان آل سعود کے حکمرانوں کے ذاتی سلیقے کی بنیاد پر چلتا ہے کہ جس کی بنا پر اس ملک میں انواع و اقسام کے امتیازی سلوک ہوتے ہیں اور سعودی شہریوں کو ہر قسم کے ظلم کی چکی میں پیسا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس ملک میں عوامی ناراضگی کی ایک لہر پائی جاتی ہے ۔ دہشت گردی کا قانون بھی کہ جو حالیہ برسوں میں اور عرب ملکوں میں عوامی تحریکوں کے آغاز کے بعد پاس کیا گیا اس نے اس ملک کے عوام کو کچلنے کے لیے آل سعود کو کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔چونکہ سعودی عرب میں گھٹن اور کچلنے کا ماحول ہے اس لیے مختلف شعبوں میں انسانی حقوق کو کس قدر پایمال کیا جاتا ہے اس کی صحیح تعداد منتشر نہیں کی جاتی بلکہ بہت کم واقعات ہی منظر عام پر آپاتے ہیں ،اس مقالے میں آل سعود نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی جو دھجیاں بکھیری ہیں ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا ۔
یمن پر بزدلانہ حملہ
سعودی عرب کے انسانی حقوق کو پایمال کرنے کا سب سے اہم نمونہ یمن پر اس کا بزدلانہ حملہ ہے جس پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر اعتراضات کیے ہیں ۔ان جنگ افروز خونخوار بھیڑیوں نے جدید ترین مغربی ہتھیاروں کے سہارے یمن کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ وہاں کے تجارتی مراکز ،ہسپتالوں ،مدرسوں ، اور گندم کے خرمنوں اور سب سے فقیر ہمسایہ ملک کے خوراک کے ذخیروں کو نیست و نابود کر دیا ہے ۔ اپنے تابڑتوڑ رہائشی علاقوں پر وحشیانہ حملے کر کے ہزاروں نہتے یمنیوں کو قتل عام کیا ہے اور لاکوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے ۔ یہاں جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے یہ جرائم کو شمار کرنے والی غیر فوجی رصد گاہ نے یمن پر ایک سال کے جرائم کی فہرست ہے ۔ان اعداد و شمار میں یمن میں جو جانی نقصان ہوا اور سعودی حملے کے نتیجے میں جو مالی تباہی ہوئی ہے اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔
شہیدوں اور زخمیوں کی کل تعداد ؛ ۲۷۰۲۹ ، مردوں کی تعداد ؛ ۱۸۴۲۴ ، عورتوں کی تعداد ؛ ۳۸۱۳ ، اور بچوں کی تعداد ۴۷۹۲ ،
کل شہیدوں کی تعداد ؛ ۹۳۶۶ ، مردوں کی تعداد ؛ ۵۱۱۲ ، بچوں کی تعداد ؛ ۲۳۶۷ ، اور عورتوں کی تعداد ؛ ۱۸۸۷ ،
کل زخمیوں کی تعداد ؛ ۱۷۶۶۳ ، مردوں کی تعداد ۱۳۳۱۲ ، بچوں کی تعداد ؛ ۲۴۲۵ ، عورتوں کی تعداد ؛ ۱۹۲۶ ،
تباہ کیے گئے حکومتی مراکز اور اداروں کی تعداد ؛ ۱۱۳۶ ،
تباہ کیے گئے گئے ایندھن لے جانے والے ٹینکروں کی تعداد ؛ ۲۱۲ ،
تباہ کیے گئے ایندھن کے ذخیروں کی تعداد ؛ ۲۷۱ ،
تباہ کیے گئے خوراک کے ذخیروں کی تعداد ؛ ۶۰۳ ،
بمباری سے تباہ کیے گئے تجارتی اور عوامی بازاروں کی تعداد ؛ ۳۸۹ ،
تباہ کی گئی غذائی سامان لے جانے والی بڑی گاڑیوں کی تعداد ؛ ۴۶۳ ،
تباہ کیے گئے پولٹری فارموں کی تعداد ؛ ۱۵۷ ،
تباہ کیے گئے سیاحتی مراکز اور اداروں کی تعداد ؛ ۱۴۹ ،
تباہ کیے گئے تاریخی آثار اور گرمیوں کی چھٹیوں کے مراکز کی تعداد ؛ ۱۴۹ ،
تباہ کیے گئے تاریخی آثار اور قدیمی مراکز کی تعداد ؛ ۷۲ ،
تباہ کیے کارخانوں اور فیکٹریوں کی تعداد ؛ ۲۲۳ ،
تباہ کیے گئے کھیل کود کے مراکز اور اداروں کی تعداد ؛ ۵۳ ،
تباہ کیے گئے غلے کے خرمنوں کی تعداد ؛ ۸ ،
مسمار کی گئی مسجدوں کی تعداد ؛ ۶۶۴ ،
مسمار کیے گئ مدارس اور ثقافتی مراکز کی تعداد ؛ ۸۱۰ ،
مسمار کیے گئے یونیورسٹی کے مراکز کی تعداد ؛ ۴۱ ،
تباہ کیے گئے ابتدائی طبی سہولتی مراکز کی تعداد ؛ ۲۵۸ ،
تباہ کیے گئے وقفی مدارس کی تعداد ؛ ۳۷۵۹ ،
تباہ کیے گئے گھروں کی تعداد ؛ ۳۴۶۱۰۳ ،
بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ؛ ۲۷۱۴۵۷۹ ،
تباہ کیے گئے ذرائع ابلاغ کے اداروں کی تعداد ؛ ۱۷ ،
تباہ کیے پانی کے مخازن اور پانی سپلائی کرنے والے مراکز کی تعداد ؛ ۱۶۳ ،
تباہ کیے گئے ہوائی اڈوں کی تعداد ؛ ۱۴ ،
تباہ کی گئی بندرگاہوں اور لنگر اندازی کے مقامات کی تعداد ؛ ۱۰ ،
تباہ کیے گئے مواصلاتی چینلوں اور اداروں کی تعداد ؛ ۱۶۷ ،
تباہ کیے گئے پلوں اور راستوں کی تعداد ؛ ۵۳۰ ،
تباہ کیے گئے بجلی پیدا کرنے اور سپلائی کرنے والے مراکز کی تعداد ؛ ۱۴۰ ،
سعودی عرب اور بحرین کے لوگوں کو کچلنا
امریکہ کی سابقہ وزیر خارجہ ہیلری کلینٹن اور اس کے مشیر کے خطوط نے آل سعود کے فوجیوں کے ذریعے بحرین کے پر امن مظاہرے کرنے والوں کے قتل عام کی تازہ دستاویزوں سے پردہ اٹھایا ہے ۔سابقہ وزیر خارجہ ، اور موجودہ صدارتی انتخابات کی امیدوار ہیلری کلینٹن اور اس کے مشیر کے درمیان ردوبدل ہوئے خطوط کو ویکی لیکس نے شایع کیا ہے جس سے ایک بار پھر سعودی عرب کی طرف سے بحرین کے لوگوں کے انتفاضے کو کچلنے اور آل خلیفہ کی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے والوں کو قتل کرنے کی گونج بین الاقوامی محافل میں سنائی دے رہی ہے ۔
ایمیل سیڈنی بلومینٹل جو کلینٹن کا مشیر ہے اس نے بحرین کی تبدیلیوں کے بارے میں اس کو دی گئی ایک رپورٹ میں بحرین میں سعودی فوجوں کی مداخلت کو ایک غاصبانہ قبضہ قرار دیا ہے۔ اس رپورٹ میں آیا ہے کہ ۱۶ مارچ ۲۰۱۱ کی صبح کو سعودی افسروں کے بقول کہ جن کا سعودی فوجوں سے براہ راست رابطہ ہے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے سعودی بادشاہ کے فوجی مشیروں کو خفیہ طور پر اطلاع دی کہ کچھ سعودی افراد ۱۳ مارچ کو بحرین میں داخل ہوئے ہیں کہ جن کی تعداد ایک ہزار ہے ،اگر وہ مجبور ہوں تو مارنے کے لیے گولی چلائیں تاکہ اس طرح مظاہرے کرنے والوں کو متفرق کرنے میں بحرین کی نا منظم فوج کی مدد ہو جائے ۔
اس رپورٹ کے مطابق مذکورہ ذرائع نے تصریح کی کہ سعودی فوجوں نے بحرینی فوجوں کے ایما پر میدان لوء لوء میں مظاہرے کرنے والوں پر گولیاں چلائیں کہ جس کے نتیجے میں کم سے کم ۱۲ افراد جانبحق اور ۳۰ سے پچاس افراد زخمی ہو گئے ۔
اس رپورٹ میں کہ جس کو ویکیلیکس کی سایٹ نے منتشر کیا ہے آیا ہے : سعودی افسروں نے تصریح کی ہے کہ بحرین کا بدشاہ اور وزیر اعظم بحرین میں سلطنت مشروطہ کے طرفداروں کے جماوڑے سے سخت پریشان تھے اور بادشاہ کا اس زمانے میں اصرار تھا کہ مخالفتوں کا سد باب کرنے اور شیعوں کی اکثریت پر پھر سے طاقت کا استعمال کرنے کے لیے پورے وسایل کو کام میں لایا جائے ۔
اس مقصد کی خاطر بادشاہ نے سال ۲۰۰۹ میں خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں کے درمیان جو دفاعی سمجھوتہ ہوا تھا اس کی طرف رجوع کیا اور سعودیوں سے کہا کہ وہ اپنی فوج بھیجیں ۔
یہ جو کچھ افشا ہوا ہے یہ بحرین کے لوگوں کے پر امن انقلاب کو کچلنے میں سعودیوں کے کردار کا ایک گوشہ ہے کہ جنہوں نے گذشتہ ۵ سال میں بحرین کے لوگوں کو کچلنے اور قتل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔
من مانی گرفتاریاں
نافذہ تواصل خبری مرکز کی رپورٹ کے مطابق کہ جس کو سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے سال ۲۰۱۳ میں سعودی عرب میں گرفتار کیے جانے والوں کی خبریں منتشر کرنے کے لیے ایجاد کیا تھا انسانی حقوق کی ناظر تنظیم کے اعلان کی بنیاد پر ۱۵ مئی ۲۰۱۴ تک گرفتار کیے جانے والوں کی تعداد ۲۶۷۶۶ افراد تھی ۔ ان میں سے ۲۰۳ افراد بغیر مقدمہ چلائے ۶ ماہ تک جیل میں تھے ،۱۶ افراد دو سال تک جیل میں تھے اور شخص کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ لیکن غیر سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر ۳۰۰۰۰ گرفتار شدہ افراد سعودی جیلوں میں ہیں اور یہ جیل خانے دنیا کے سب سے برے اور خراب جیل خانے ہیں ۔
مذہبی آزادی کی خلاف ورزی
مذہب و اعتقاد کی آزادی کے سلسلے میں تحقیق کرنے والوں کی خصوصی رپورٹ سے سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر مذہبی اقلیتوں کے افراد خاص کر شیعوں کی گرفتاری کا پتہ چلتا ہے مشرقی علاقے کے رہنے والوں یا احساء کے شیعوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے ۔وہ خصوصی مدارس یا بچوں کے مکاتب تک میں کام کرنے کا حق نہیں رکھتے ۔ شیعوں کے لیے کچھ عہدوں پر جیسے وزیر ، شہر کے مئیر ،ڈیپلومیٹ یا کسی بین الاقوامی تنظیم میں حکومت کے نمایندے کی پوسٹ پر کام کرنے کی پابندی ہے ۔
سال ۲۰۱۱ کی رپورٹ میں خصوصی رپورٹر اسماء جہانگیر نے مذہب اور اعتقاد کی آزادی کے سلسلے میں شیعوں کے خلاف امتیازی سلوک کے ایک اور نمونے کی جانب اشارہ کیا ہے ۔محمد العریفی کہ جس کو مذہبی امور کی وزارت نے ریاض کی جامع مسجد کا امام جمعہ مقرر کیا تھا یکم جنوری سال ۲۰۱۰ کو جمعہ کی نماز میں شیعوں کے خلاف مکمل طور پر امتیاسی سلوک پر مبنی تقریر کی ۔ اس نے مطالبہ کیا کہ پوری دنیا اور خاص کر سعودی عرب کے شیعوں کو مٹا دیا جائے ۔ العریفی نے کہا کہ شیعہ واقعی مومن نہیں ہیں اور انہوں نے اپنے عقاید کی بنیاد کفر پر رکھی ہے کہ جو دین فارسی کا باقی ماندہ ہے ۔اس نے تمام شیعوں کو خائن اور ایران سے وابستہ بتایا ۔ اس نے اس سے پہلے بھی یمن کی سرحد پر سعودی فوجوں سے کہا تھا کہ حوثی شیعوں کے خلاف اپنی جنگ میں جس شیعہ کو بھی دیکھو اسے قتل کر دو ۔
سعودی عرب کے شیعوں کی رقت بار حالت
دنیائے اسلام میں شیعوں کی پیدائش کا مقام حجاز اور بطور مشخص مدینہء منورہ تھا کہ جہاں پیغمبر ص کے کچھ صحابیوں جیسے ابو ذر ، سلمان ، مقداد اور عمار نے نص اور پیغمبر اعظم ص کے اشارے کی پیروی کرتے ہوئے مدینے میں شیعوں کی بنیاد رکھی تھی ۔ اس کے بعد پہلی صدی میں شیعیت عراق اور ایران تک پہنچ گئی ،لیکن سعودی عرب میں شیعہ ہمیشہ موجود رہے ۔ اس وقت ۱۵ سے ۲۰ تک سعودی عرب کی آبادی میں شیعہ ہیں ۔ وہ زیادہ تر صوبہء الشرقیہ اور احساء اور قطیف میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔یہ علاقے ۱۹۱۳ عیسوی میں سعودیہ سے ملحق ہوئے تھے ۔ ۔جس وقت ملک عبد العزیز نے الشرقیہ کے علاقے کو اپنی قلمرو میں شامل کیا تھا ،اور شیعوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے مذہبی اعمال کو آزادی کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں ۔لیکن اس وعدے پر کبھی بھی عمل نہیں کیا گیا صوبہء الشرقیہ کے علاوہ کچھ شیعہ حجاز اور بطور خاص مدینے میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔کچھ زیدی اور اسماعیلی شیعہ بھی ہیں جو نجران اور سعودی عرب کے جنوب میں رہتے ہیں ۔ صرف ریاض میں ۳۰۰۰۰ شیعہ ہیں کہ جو کام اور تجارت کے لیے وہاں گئے ہیں ۔
صوبہء الشرقیہ کہ جس میں شیعوں کی اکثریت رہتی ہے سعودی عرب کا ۸۰ فیصد اس میں پایا جاتا ہے لیکن وہ اس ملک کا ایک محروم ترین علاقہ ہے ۔سعودی عرب میں شیعوں کی اصلی آبادی اسی صوبے میں ہے اور سعودی عرب کے دو بڑے شیعہ نشین شہر احساء اور قطیف اسی صوبے میں ہیں ۔ سعودی عرب کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں الشرقیہ کے شیعوں کی اقتصادی حالت بہت کمزور ہے ۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی کمیٹی کی ۱۹۹۶ میں مینہ سوتا کے وکلاء کی جو رپورٹ منتشر ہوئی ہے اس میں آیا ہے کہ صوبہء شرقیہ سعودی عرب کا سب سے فقیر علاقہ ہے ۔ حکومت اس علاقے کی تعمیر و ترقی اور تعلیمی امور پر بہت کم خرچ کرتی ہے ۔ان علاقوں میں ۱۹۸۰ عیسوی کے اوایل تک زاغہ نشینی کا رواج تھا ،شیعہ نشین شہروں اور علاقوں میں ریاض اور جدہ جیسے جدید علاج کے وسایل بالکل نہیں ہیں ۔
اس صوبے میں شیعوں کی اکثریت کے باوجود ان کو شہر میں کوئی بڑا عہدہ نہیں دیا جاتا ۔احساء میں تو شیعہ کسی پرائمری اسکول کے نائب بھی نہیں بن سکتے ۔ صوبہء شرقیہ کے شیعہ سعودی عرب کے سب سے حیاتی علاقے میں زندگی بسر کرتے ہیں ،یہ علاقہ کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے ؛ اول یہ کہ یہ ان علاقوں میں سے ہے جس ملک اور دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں ۔ دوم یہ کہ اس صوبے کے شیعہ بین الاقوامی امن اور تجارت کے لحاظ سے ملک کے اقتصادی استحکام میں اہم کردار کے مالک ہیں ۔ سو یہ کہ سعودی عرب کے شیعہ ایسے علاقے میں ہیں کہ جو تین شیعہ ملکوں یعنی ایران عراق اور بحرین کے نزدیک ہے ۔ مدینے کے شیعوں کی حالت سعودی عرب کے مشرقی علاقے کے شیعوں سے مختلف ہے ۔مدینے کے شیعہ شیعہ مذہبی مراکز جیسے قبرستان بقیع کے نزدیک ہونے اور حرم نبوی کے زائرین سے رابطے میں ہونے کی وجہ سے کافی دباو اور سختی میں ہیں ، مدینے کی مسجدوں اور امامباڑوں کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔شیعوں کو اپنے مذہبی کو آشکارا طور پر منانے اور اپنے مذہب کا اظہار کرنے کا حق نہیں ہے وہ اذان نہیں کہہ سکتے اور علماء کا لباس نہیں پہن سکتے ۔ اسی امام باڑے اور مسجدیں تعمیر کرنے کا حق ان سے مکمل طور پر چھین لیا گیا ہے انہیں صرف کسی ہال میں نماز جماعت قائم کرنے کا حق ہے ۔مدینے میں تقریبا پچاس ہزار شیعہ ہیں جو بہت معمولی پوسٹوں پر یا کھیتی کا یا آزاد کام کرتے ہیں اور اکثر ان کو وہابیوں کے شدت پسند تکفیریوں کے فتووں کا سامنا رہتا ہے جس کی وجہ سے ان کے مقدسات ہمیشہ خطرے کی زد پر رہتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲